ینگون،14؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دنیا کے کئی مسلم ممالک کے طرح پاکستان میں بھی روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نام پر مذہبی، جہادی اور فرقہ پرست تنظیمیں سرگرم ہو چکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ میانمار کی ریاست راکھین کامسلم علاقہ جہادیوں کے لیے پر کشش بن جائے گا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ نے پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور فلپائن کے مجاہدین پر زور دیا کہ وہ میانمار کے مسلمانوں کی مدد کریں۔ ایک بیان میں اس دہشت گرد تنظیم نے کہا، جس طرح کا سفاکانہ سلوک برمی مسلمانوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، اس کی سزا دی جائے گی۔ ہم بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور فلپائن کے مجاہدین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ برما کے مسلمانوں کی مدد کے لیے روانہ ہوں اور اس کے لیے ٹریننگ سمیت ساری تیاریاں کریں تاکہ ظلم سے لڑا جا سکے۔انڈونیشیا، ملائشیا، بنگلہ دیش، یمن اور پاکستان کی بھی جہادی اور مذہبی تنظیموں نے اسی طرح کی اپیلیں کی ہیں۔ پاکستان میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر نے القلم نامی جہادی میگزین میں لکھا ہے کہ برما امن کے لیے ترسے گا۔لیکن پاکستان میں کئی تجزیہ نگار وں کے خیال میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو خطے کی مجموعی صورت حال کے پیش نظر دیکھنا جانا چاہیے۔ کئی مبصرین مذہبی اور جہادی تنظیموں پر منافقت کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔
کئی مبصرین اس مسئلے کو خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کے خیال میں میانمار میں جہادی تنظیموں کی موجودگی سے امریکا اور مغرب کو فائدہ ہوگا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جہادی تنظیمیں جہاں جہاں جاتی ہیں، پیچھے پیچھے امریکا آجاتا ہے۔ پہلے انہوں نے افغانستان میں ان کے آنے کا راستہ ہموار کیا۔ پھر انہوں نے شام میں اس کی مداخلت کا جواز بنایا۔ انہوں نے لیبیا کو برباد کر کے وہاں پر مغربی مداخلت کا راستہ ہموار کیا۔ اب اگر میانمار میں گڑ بڑ ہوتی ہے، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان چین کو ہو گا۔ میانمار، ملائشیا اور انڈونیشیا میں چین کی اچھی خاصی سرمایہ کاری ہے۔ اگر میانمار میں گڑ بڑ ہوتی ہے، تو اس کا اثر ملائشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش پر بھی پڑے گا، جہاں پہلے ہی انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ایسی صورت میں چین چاروں طرف سے گھر جائے گا اور اگر میانمارمیں کبھی امریکی مداخلت ہوئی، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک طرف امریکا افغانستان میں ہے اور دوسری طرف اس بدھ مت کی اکثریت والے ملک میں، یعنی چین دونوں طرف سے گھرا ہوا ہو گا۔ڈاکٹر امان میمن کا کہنا تھا کہ میانمار میں حالیہ برسوں میں معاشی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ اس ملک میں تین بلین ڈالر سے زیادہ ایف ڈی آئی صرف اسی برس آئی ہے۔ شرح نمو سات فیصد سے زیادہ ہے لیکن اگر موجودہ صورت حال پر قابو نہ پایا گیا، تو ابو سیاف گروپ سے لے کر القاعدہ اور داعش سے لے کر جیشِ محمد تک، سبھی تنظیمیں وہاں اپنے قدم جمانے کی کوشش کرین گی۔
نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکر نجم الدین نے روہنگیا مسلم اقلیت کو درپیش بحران کے حوالے سے بتایا، اگر اس بحران پر سفارتی سطح پر جلد قابو نہ پایا گیا، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کے لیے یہ ایک پر کشش جگہ بن جائے گی۔ میرے خیال میں اس صورت حال کو آسیان کے ممالک پریشانی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی، تو اس سے خطے کے ممالک کے مابین تلخیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔